درخت اور انسانی صحت
کرہ ارض کی تپش بڑھتی جا رہی ہے اور ماحولیاتی ماہرین کے مطابق مستقبل میں عالمی درجہ حرارت میں ۳ سے ۵ فیصد تک کے اضافہ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں جس کے خطرناک نتائج برآمد ہونے کا اندیشہ ہے ۔ قدرتی ماحول میں انسان کی بے جا مداخلت سے دنیا کے موسموں میں غیر متوقع تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں ایک طرف انٹارکٹیکا کے برف زار پگل رہے ہیں اور دنیا کے بعض حصوں کے زیر آب آنے کے خطرات پیدا ہو چکے ہیں تو دوسری طرف بعض خطوں میں بارشوں کی کمی اور آبی وسائل کی کمیابی جیسے مسائل سے خشک سالی اور غذائی قلت کے اثار پیدا ہو گئے ہیں لیکن سب سے بڑا خطرہ خود انسانی صحت اور بقاءکے لئے پیدا ہو چکا ہے۔ گرین ہاﺅس گیسز کے بے تحاشا اخراج سے انسانی زندگی اور صحت خطرے میںپڑتی چلی جا رہی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق خطرناک ماحولیاتی تبدیلیاں سالانہ ۵ ملین افراد کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کرنے کا سبب بن رہی ہےں جبکہ 150,000 افراد ان ماحولیاتی بیماریوں کے ہاتھوںہلاک ہو رہے ہیں ۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے کینسر‘ ملیریا‘ دست‘ دمہ وغیرہ جیسی بیماریوں کے ساتھ غذائی کمی کے مسائل بھی پیش آ رہے ہیں ایک اندازے کے مطابق ہر سال 60,000 افرادالٹرا وائلٹ شعاعوں کی وجہ سے جلد ی بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ان خطرات سے بچنے اور انسانی صحت کے بچاﺅ کے لئے ماحول کی اصلاح کے لئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے ۔ اس سلسلے میں دنیا کے ترقیافتہ ممالک امریکہ اور یورپی ممالک کی زیادہ ذمہ داری بنتی ہیں کہ وہ ماحولیاتی جرائم سے باز آئیں اور گرین ہاﺅس گیسز کے اخراج پر قابو پالیں لیکن دنیا کے دوسرے ممالک بھی ماحولیاتی اصلاح سے مبرا نہیں کیونکہ پسماندہ ممالک زیادہ خطرات کے زد میں ہیں جس سے بچنے کے لئے انہیں ٹھوس کوششیں کرنی چاہئیں جن میں ایک قدم درخت لگانا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ بڑے پیمانے پر شجر کاری سے ماحول پر اچھے اثرات ہو سکتے ہیں ۔
ماحول کو درست رکھنے میں درخت اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ جہاں درخت ماحول کی خوبصورتی کا سبب بنتے ہیں وہاں ہوا کو صاف رکھنے‘ طوفانوں کا زور کم کرنا‘ آبی کٹاﺅ روکنے ‘ آکسیجن میں اضافے اور آب و ہوا کے توازن برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
ماحولیاتی آلودگی اس دور کا ایک گھمبیر مسئلہ ہے۔درخت ہی اس پیچیدہ مسئلے کا ایک اچھا اور آسان ترین حل ہےں ۔کیونکہ ایک بڑا درخت 36ننھے منے بچوں کو آکسیجن مہیا کرتا ہے جبکہ دس بڑے درخت ایک ٹن ائیر کنڈیشنر جتنی ٹھنڈک پیدا کرتے ہےں اور ساتھ ہی فضائی آلودگی اور شور کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گندے نالے کے دونوں کناروں پر لگائے گئے درختوں کی جڑیں گندے مادوں کو جذب کرکے ناگوار بو کم کرتی ہےں۔ جبکہ اس کے پتے ماحول کو صاف ہوا مہیا کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کا پچیس فیصد رقبہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہونا چاہئیے اس تناسب سے دیکھیں تو پاکستان کے صرف4.8 فیصد رقبے پر جنگلات میں جبکہ صوبہ سرحد میں یہ تناست 17 فیصد ہے ۔ اس میں بھی 2.5فیصد کھیتوں میں اگنے والے درختوں پر مشتمل ہے ۔جنگلات کا یہ رقبہ بالکل ہی ناکافی ہے اور اس میں اضافے کی شدید ضرورت ہے تاکہ ہم نہ صرف تازہ ہوا میں سانس لینے کے قابل ہو سکیں بلکہ ٹوکیو اور دہلی کے باشندوں کی طرح کہیں ہمیں بھی
آکسیجن بار کا سہارا لینا نہ پڑے- اس لئے بہار اور برسات کے موسموں میں شجرکاری کے لئے
انفرادی اور اجتماعی کوششیں کرنی چاہئیں کھیتوں ‘پہاڑوں ‘ ناقابل کاشت زمینوں‘ دفتروں‘ غرض جہاں بھی خالی جگہ میسر وہاں مناسب درخت لگانا چاہئیے ۔
ناکارہ اور بنجر زمینوں پر تو ضرور درخت لگانا چاہئیں کیونکہ یہ ان کے استعمال کا بہترین ذریعہ ہے بارانی علاقوں میں بھی زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر ہم ان کو چارے اور آمدنی کا متبادل وسیلہ دے سکتے ہیں کیونکہ جب خشک سالی کے دوران بارانی علاقوں میں ہریالی کا نام و نشان نہیں ہوتا تو درخت ہی چارے وغیرہ کے کام آتے ہیں درخت لگاتے وقت جدید زرعی تحقیقات سے رہنمائی لینا بہت ضروری ہے زمین کی ساخت اور ماحول کے مطابق ایسے درختوں کا انتخاب کریں جو بیک وقت غذا ایندھن جنگلی حیات کے فروغ اور زمین کی زرخیزی کے لئے زیادہ مفید ہیں جدید تحقیق کے مطابق جس زمین میں الکلی کی مقدار زیادہ ہو اس میں سفیدہ لگانے سے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں سفیدہ کے درخت سے زائد الکلی جذب کر لیتے ہیں جس سے فصلیں اچھی ہوتی ہیں ماہی پروری کے تالابوں کے ارد گرد سفیدہ اپل اور سرس کے درخت لگانے کے ایک ساتھ کئی مقاصد حاصل ہوتے ہیں ماحول کی خوبصورتی اور آمدنی میں اضافے کے علاوہ ان درختوں کے پتے مچھلیوں کی غذا کے کام بھی آتے ہیں جس کے اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں کیونکہ انہیں قدرتی غذا میسر آتی ہے۔
کھیتوں کے کنارے لگائے گئے درختوں کے فصلوں پر اچھے اثرات رونما ہوتے ہیں یہ کھیتوں میں پانی‘ ہوا اور درجہ حرارت کو اعتدال پر رکھتے ہیں- جڑیں فالتو کیمیائی مادے استعمال میں لاکر زرخیزی میں اضافہ کرتی ہیں جبکہ درختوں پر رہنے والے پرندے کیڑے مکوڑے کھا کر بیماریوں کی روک تھام کے لئے قدرتی مدافعتی نظام مہیا کرتے ہیں۔ زرعی فصلیں اوپر کی ڈیڑھ سے دو فٹ زمین استعمال کرتی ہیں جو پانی اور کھاد اس سطح سے نیچے چلایا جاتا ہے وہ تہہ جما کر زمین کی زرخیزی کو متاثر کرتا ہے۔ درخت اس کا بہترین علاج ہے اس کی لمبی جڑیں جمنے والی تہہ کو توڑ کر ضائع ہونے والے کھاد اور پانی کو استعمال کرتی ہیں جس سے نہ صرف درخت بڑھتے ہیںبلکہ زمین کو نائٹروجنی کھاد کا تحفہ بھی دیتے ہیں ۔
درجہ حرارت کی تبدیلی بھی درختوں کی نشو و نما پر اثر انداز ہوتی ہے اسلئے آب و ہوا کے مطابق درخت کا انتخاب ایک بنیادی بات ہے ۔سوات ‘ دیر اور ہزارہ کے ٹھنڈے پہاڑی علاقوں میں دیار ‘ کائل‘پڑتل ‘ کالاکاٹ‘بن کھوٹ‘اخروٹ‘ چیری‘ خوبانی‘ سیب اور شاہ بلوط کے درختوں کی کاشت کرنا چاہئیے ان ہی ٹھنڈے علاقوں میں پانی کے چشموں اور نالوں کے کنارے شرول ‘ چناراور دلو کے درخت لگانا مفید ہے ۔ میدانی مگر ٹھنڈے علاقوں میںچیڑ ‘ اخروٹ‘ روبینا(کیکر ایک قسم) ایلنتس اور کیو (زیتون کی ایک قسم )لگانا مناسب ہے۔ ہری پور کے پہاڑوں اور اس جیسے دوسرے معتدل علاقوں میں چیڑ‘ پولائی اور کیو کی کاشت مناسب ہے ۔ چارسدہ ‘ صوابی ‘ مردان اور پشاور کے میدانی علاقوں کے لئے سفیدہ‘ اپل اپل ‘ دلو اور شیشم زیادہ موزوں ہے۔ کوہاٹ اور نظام پور میں بیرا‘ کیکر اور پولائی کاشت کرنا چاہئیے جبکہ بنوں‘ لکی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں فراش کا پودا لگانا بہتر ہے۔
سفیدہ ‘ولو اور بانس بے حد ماحول دوست درخت ہیں۔ اسی طرح ماحول کی اصلاح کے لئے ماہرےن پےنل ،بڑ ،نےم ،آم ،جامن ،پھلاہی ،جنڈ،برنا،دھرےک،شےرےن اور شےشم جےسے لمبی عمروالے درخت لگانے کا مشورہ دےتے ہےں کےونکہ اےسے درختوں کو بار بار کاٹنا اور لگانا نہےں پڑتا ،درخت ماحول کی اصلاح کے ساتھ ساتھ آمدنی مےں اضافے کا بھی بہترےن وسےلہ ہےں تجارتی مقاصد کےلئے اےسے درختوں کا چناﺅ ضروری ہے جو جلد بڑھتے ہےں اور زےادہ سے زےادہ صنعتوں مےں ان کا استعمال ہوپا پلر ،،شےشم ،سےمل ،سفےدہ ،کےکر اور توت کے پودے جلدی بڑھ کر استعمال کے قابل ہو
جاتے ہےں ان کا استعمال کھےلوں کے سامان ،ماچس ،جوتا سازی ،پلائی وڈ ،چپ بورڈ اور فرنےچر سازی کی صنعتوں مےں استعمال ہوتا ہے اور مارکےٹ بھی وسےع ہے توت کے پتے رےشم کے کےڑوں کی بہترےن غذا ہے رےشم کی پےداوار بڑھانے کےلئے توت کاشت کرنی چاہےے ۔
شجر کاری کےلئے پودا نرسری سے کاشت کی جگہ تک لانے مےں چند باتوں کا خےا ل رکھنا چاہےے پودے کو اچھے طریقے سے اکھاڑکر احتےاط سے منتقل کےا جائے جڑوںکے ساتھ لگی ہوئی مٹی (ارتھ بال) الگ نہ ہونے پائے‘ اکھاڑنے کے بعد جس قدر جلد ممکن ہو پودا لگانا چاہئیے ۔ پلاسٹک کے تھیلے میں لگائے گئے پودے سے بھی احتیاط کے ساتھ پلاسٹک کو الگ کرنا چاہئیے۔ پودے نرسری سے لانے سے پہلے ہی ان کے گڑھے کھودنے کا بندوبست ضروری ہے پودے لگانے کے لئے اتنا گڑھا کھودنا چاہئیے جسکی جڑیں اس میں اسانی سے سما جائےں ۔ سخت اور پہاڑی مقامات پر گڑھے کا سائز نسبتاً بڑا ہونا چاہئیے پودا لگاتے وقت اس کو سیدھا رکھےں اور گڑھے کو نرم مٹی‘ قدرتی کھاد خصوصاً پتوں کی کھاد سے آدھا بھر کر چاروں طرف سے خوب دبائیں اس کے بعد مزید مٹی اور کھاد ڈال کر دبائیں۔ پودے کے کالر یعنی وہ جگہ جہاں جڑا ور تنا آپس میں ملتے ہیں کو مٹی میں دبائیں پانی ڈالنے کے لئے گڑھے کو دو انچ گہرا رکھیں اور پودا لگاتے ہی پانی دیں۔پانی دینے سے مٹی بیٹھ جائے اگلے دن مزید مٹی ڈالیں۔
درخت لگانا جس قدر اہم ہے اس سے زیادہ اہم اسکی حفاظت ہے نرم و نازک پودے کو اپنی جڑوں کی مضبوطی کے لئے وقت درکار ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی اچھی طرح نگہداشت کی جائے تاکہ وہ نئے ماحول میں خود کو منوا سکے جہاں اس کو پانی ‘ کھاد اور تراش کی ضرورت ہے وہاں اس کی بیرونی دشمنوں سے بھی مدافعت لازمی ہے ۔ حیوانات اور بچوں سے اسے بچانا چاہئیے ساتھ ہی بیماریوں کی روک تھام اور اچھی نشو و نما کے لئے زرعی ماہرین سے رابطہ رکھنا چاہئیے ۔
اگر ہم زیادہ درخت لگائیں اور پھر ان کی دیکھ بھال بھی ٹھیک طرح سے کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ جنگلات کے رقبے میں اضافے کے ساتھ ماحولیات اور حیاتیاتی تنوع برقرار رکھنے جیسے مسائل پر کامیابی سے قابو نہ پایاجا سکے۔لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ نئے درخت لگانے کے ساتھ ساتھ موجودہ درختوں کی کٹائی سے گریز کریں کیونکہ درخت پر کلہاڑا
چلانا اپنے پاﺅں پر کلہاڑا چلانے کے برابر ہے ۔
ہم تو محروم ہیں سایوں کی رفاقت سے مگر
آنے والوں کے لئے پیڑ لگادیتے ہیں